حقیقت دعا

أدعونی أستجب لکم ( القرآن)

خداوندِ کریم کا یہ قطعی اعلان ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ یہ کوئی افسانوی جملہ نہیں، بلکہ قرآنِ مجید کی آیت ہے، اور قرآن الہامی شعور (Divine Wisdom) کا ایسا سرچشمہ ہے جو انسان کو حقیقت کے ادراک تک پہنچاتا ہے۔ یہ ایک اٹل اور ناقابلِ تردید حقیقت ہے جس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم بے شمار دعائیں مانگتے ہیں، لیکن وہ سب کی سب قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ بلکہ ہمارا عمومی مشاہدہ تو یہ ہے کہ اکثر دعائیں رد ہو جاتی ہیں اور بہت کم دعائیں درجۂ قبولیت تک پہنچتی ہیں۔ کبھی انسان مدتوں کسی حاجت کے لیے دستِ دعا بلند رکھتا ہے، مگر ظاہری طور پر اس کی مراد پوری نہیں ہوتی، اور یہ کیفیت اس کے دل میں اضطراب اور سوالات کو جنم دیتی ہے

یہ ایک نہایت اہم اور قابلِ غور مسئلہ ہے، کیونکہ اس سلسلے میں دو ہی صورتیں قابلِ تصور ہیں یا تو (العیاذ باللہ) قرآنِ مجید سچ نہیں کہہ رہا، یا پھر قرآن سچ کہہ رہا ہے مگر جو کچھ ہم مانگ رہے ہیں، وہ حقیقتاً دعا ہی نہیں

پہلی صورت سراسر باطل ہے، کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کلامِ الٰہی خلافِ واقع ہو؟ جب کہ ربِّ کریم کا کلام ہر خطا سے پاک، ہر شک سے بلند اور ہر نقص سے منزّہ ہے، قرآن صداقت کا وہ معیار ہے جس کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی

لہٰذا دوسری صورت ہی قرینِ عقل قرار پاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری بہت سی دعائیں دراصل دعا کے حقیقی مفہوم پر پورا نہیں اترتیں، کیونکہ یہ بات عقل سے بعید ہے کہ کوئی دعا واقعی دعا بھی ہو، اس کی قبولیت میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو، اور پھر بھی وہ قبول نہ کی جائے،حقیقت یہ ہے کہ ہم اکثر الفاظ کو دعا سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک باطنی کیفیت، ایک روحانی ارتباط اور ایک قلبی التجا کا نام ہے

اب اصل سوال یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو کسی دعا کو حقیقی دعا بناتے ہیں؟

معصومین علیہم السلام کے فرامین میں ان شرائط کی واضح نشاندہی موجود ہے جن کی موجودگی میں دعا حقیقت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔ تاہم ان شرائط کے بیان سے پہلے ضروری ہے کہ حقیقی اور غیر حقیقی دعا کے درمیان فرق کو سمجھ لیا جائے، کیونکہ جب تک انسان حقیقت اور مجاز کے فرق کو نہیں پہچانتا، وہ صحیح راستہ اختیار نہیں کر سکتا

جس طرح ایک حقیقی پھول اور کاغذی پھول میں فرق ہوتا ہے، بعینہٖ حقیقی دعا اور غیر حقیقی دعا کے درمیان بھی ایک گہرا اور معنی خیز فرق پایا جاتا ہے

کاغذ یا کپڑے کا بنا ہوا پھول بظاہر پھول ہی دکھائی دیتا ہے، اس کی ساخت بھی خوبصورت ہوتی ہے اور اس کے رنگ بھی دلکش ہوتے ہیں، مگر اس کی پنکھڑیوں میں وہ نزاکت نہیں ہوتی جو ایک اصلی پھول کا خاصہ ہے۔ وہ خوشبو سے محروم، لمس کی نرمی سے بے بہرہ اور قدرتی حسن و جمال کی لطافتوں سے یکسر خالی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اصلی پھول کے دامن میں خوشبو رقص کرتی ہے، اس کا گداز لمس دل کو مسحور کر دیتا ہے، اور اس کا فطری حسن آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے

اسی طرح غیر حقیقی دعا بھی ایک کاغذی پھول کی مانند ہے،صورت میں دعا، مگر حقیقت میں محض ایک فریب، جو انسان خود اپنے آپ کو دیتا ہے اس میں الفاظ تو ہوتے ہیں، مگر اثر نہیں؛ زبان تو حرکت کرتی ہے مگر دل خاموش رہتا ہے؛ لبوں پر التجا ہوتی ہے مگر روح اس سے بے خبر ہوتی ہے

اب سوال یہ ہے کہ حقیقی دعا کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟

معصومین علیہم السلام سے منقول روایات میں چند بنیادی امور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو دعا کے حقیقی ہونے کے لیے ناگزیر ہیں

1 معرفتِ خدا

کوئی دعا اس وقت تک حقیقی دعا نہیں بن سکتی جب تک دعا کرنے والے کو معرفتِ الٰہی حاصل نہ ہو

معرفتِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس یقینِ کامل تک پہنچ جائے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے، جو اسے وجود میں لایا، جو ہمیشہ سے ہے، اور جو ہر لمحہ ہمیں دیکھ رہا ہے،اگرچہ ہم اسے نہ دیکھ سکیں یہ معرفت محض ایک ذہنی تصور نہیں بلکہ ایک زندہ احساس ہے جو انسان کے باطن میں نور کی مانند روشن ہوتا ہے

جس طرح ہم ایک دوسرے کے وجود کا احساس رکھتے ہوئے اپنی حرکات و سکنات کو منظم کرتے ہیں، اسی طرح دعا کے وقت یہ شعور ہمارے وجود میں رچ بس جانا چاہیے کہ ہم محضرِ خدا میں کھڑے ہیں۔ جب یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو دعا محض الفاظ نہیں رہتی بلکہ ایک حقیقی ملاقات بن جاتی ہے

رسولِ اکرم ﷺ سے مروی ہے ولو عرفتم اللہ حق معرفتہ لزالت الجبال بدعائکم  مستدرک الوسائل، ج 17، ص 301

 ترجمہ: اگر تم اللہ کو اس کی حقیقی معرفت کے ساتھ پہچان لو، تو تمہاری دعا سے پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ دیں

2 معرفت کے مطابق عمل

حقیقی معرفت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے علم کے مطابق عمل بھی کرے عمل کے بغیر دعا کبھی حقیقی دعا نہیں بن سکتی، کیونکہ دعا اور عمل ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں

معرفت کی سچائی کا معیار یہی ہے کہ وہ انسان کے کردار میں ظاہر ہو،مثال کے طور پر، اگر کسی کو یہ علم ہو کہ بجلی کی تار میں مہلک کرنٹ ہے، تو وہ اس کے قریب نہیں جاتا۔ یہ اس کی معرفت کا عملی اظہار ہے اسی طرح اگر انسان خدا کی قدرت اور اس کے احکام کو پہچان لے، تو اس کی زندگی خود بخود اطاعت اور بندگی کا نمونہ بن جاتی ہے

وہ عامل جو دعا کو حقیقی دعا بنا دیتا ہے یہ بھی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو خدا کے احکام کے مطابق ڈھال لے، کیونکہ نافرمانی کے ساتھ مانگی جانے والی دعا میں وہ تاثیر نہیں ہوتی جو اطاعت کے ساتھ مانگی گئی دعا میں ہوتی ہے۔

حدیثِ قدسی میں ارشاد ہوتا ہے يا داؤد إنه ليس عبد من عبادی يطيعنی فیما آمره إلا أعطیته قبل أن يسألني، وأستجيب لہ قبل أن یدعونی بحار الأنوار، ج 90، ص 368

ترجمہ: اے داؤد! میرے بندوں میں سے جو بندہ میرے احکام کی اطاعت کرتا ہے، میں اسے مانگنے سے پہلے عطا کر دیتا ہوں اور پکارنے سے پہلے اس کی دعا قبول کر لیتا ہوں۔

3 توجہ الی اللہ

دعا کے حقیقی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان پوری یکسوئی، حضورِ قلب اور خلوص کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو۔

وہ یہ محسوس کرے کہ وہ اپنے خالق و مالک کی بارگاہ میں حاضر ہے، اس کی نگاہیں اس پر مرکوز ہیں، اور وہ اپنی تمام حاجات اسی کے سامنے پیش کر رہا ہے جب دل بیدار ہو اور توجہ کامل ہو تو دعا ایک روحانی پرواز اختیار کر لیتی ہے

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں إن الله عز وجل لا یستجيب دعاء بظہر قلب ساهٍ، فاذا دعوت فأقبل بقلبک ثم استیقن بالإجابہ (وسائل الشیعہ، ج 7، ص 53)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا؛ لہٰذا جب دعا کرو تو اپنے دل کو حاضر کرو، پھر یقین رکھو کہ تمہاری دعا قبول ہوگی

اور حقیقت یہ ہے کہ دعا صرف مانگنے کا نام نہیں، بلکہ یقین کا نام ہے۔ جب انسان یقین کے ساتھ مانگتا ہے تو اس کی دعا میں ایک خاص تاثیر پیدا ہو جاتی ہے، اور یہی تاثیر اسے بارگاہِ الٰہی میں مقبول بنا دیتی ہے

یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جو دعا کو محض الفاظ کے مجموعے سے نکال کر ایک زندہ حقیقت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ جب معرفت، عمل اور توجہ یکجا ہو جائیں تو دعا اپنی حقیقی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے، اور پھر اس کی قبولیت میں کوئی شک باقی نہیں رہتا

(جاری ہے…) …



العودة إلى الأعلى