پاکستان: سانحہ ترلائی مسجد کے شہدا کی فیملی اور زخمیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وکیل مرجعِ دینیِ اعلیٰ پاکستان
پاکستان میں مرجعیتِ اعلیٰ کے وکیل، علامہ شیخ انور علی النجفی نے سانحہ ترلائی پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع مسجد و حسینیہ خدیجہ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران پیش آنے والے المناک واقعے میں کئی معصوم نمازی دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے۔ اس وقت تمام شہدا کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں ہوگئی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ جمعہ کو نمازِ جمعہ کے دوران پیش آیا، جب ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں اب تک 40 سے زائد نمازی شہید جبکہ 165 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔زخمیوں کی بڑی تعداد اس وقت اسلام آباد کے مختلف سرکاری و نجی ہسپتالوں، بالخصوص پمز ہسپتال میں زیرِ علاج ہے، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ان شہدا کا تعلق ملک کے مختلف علاقوں سے تھا، جن میں گلگت بلتستان، پاراچنار، کشمیر اور پنجاب شامل ہیں، جبکہ مقامی مومنین کی بھی بڑی تعداد بھی اس دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنی۔ شہدا کی نمازِ جنازہ ان کے آبائی علاقوں میں ادا کی گئی، جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ جنازوں کے دوران فضا "لبیک یا حسینؑ" کے نعروں سے گونجتی رہی، اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔
اس المناک سانحے پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔ مذہبی و سماجی قائدین نے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور ٹھوس حکمتِ عملی اختیار کی جائے، تاکہ معصوم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان میں مرجعیتِ اعلیٰ کے وکیل، علامہ شیخ انور علی النجفی نے سانحہ ترلائی پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس وحشیانہ اور مجرمانہ کارروائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لہٰذا حکومت ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
واضح رہے کہ اس وقت پورا پاکستان سوگ کی حالت میں ہے۔ کئی گھروں سے ایک نہیں بلکہ دو دو اور تین جنازے اٹھے، جس نے ہر دل کو غمگین کر دیا۔ تاہم، اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں زیرِ علاج زخمیوں کے حوصلے اور استقامت اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ امام حسینؑ کے ماننے والے ظلم و دہشت کے سامنے کبھی جھکتے نہیں، اور ایسے سانحات ان کے عزم و حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتے۔



