امام مہدی علیہ السلام ہر قلبِ مضطرب کی پکار
ہر انسان فطری طور پر جب بھی ظلم و ستم، جبر و استبداد یا ناانصافی کا شکار ہوتا ہے تو وہ شعوری یا لاشعوری طور پر کسی نجات دہندہ کو پکار رہا ہوتا ہے۔ وہ اگرچہ پریشان حال، مضطرب اور مصیبت زدہ ہوتا ہے، مگر اس کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں یہ امید ضرور زندہ رہتی ہے کہ یہ حالات ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے اور ایک دن کوئی نہ کوئی ایسا وقت ضرور آئے گا جب کوئی ہستی اسے اس گھٹن اور تاریکی سے نکال لے گی
یہ امید وقتی جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی روح میں پیوست وہ فطری احساس ہے جو انسان کو مکمل مایوسی کے اندھیرے میں بھی ٹوٹنے نہیں دیتا
یہ فکر محض کسی ایک مذہب یا خاص طبقے تک محدود نہیں بلکہ انسان ہونے کی حیثیت سے ہر فرد اس احساس کو اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ انسان کا تعلق خواہ کسی بھی مذہب سے ہو، وہ لادین ہو یا کسی خاص خطے اور تہذیب سے وابستہ ہو، ظلم کے مقابلے میں نجات کی یہ پکار اس کے دل میں ضرور جنم لیتی ہے۔ درحقیقت یہ فطرت کی آواز ہے، اور فطرت جو کچھ طلب کرتی ہے اس کا کوئی نہ کوئی جواب بھی اسی نظامِ فطرت میں موجود ہوتا ہے۔ فطرت کبھی کسی بنیادی طلب کو بے جواب نہیں چھوڑتی۔
مثال کے طور پر انسان کی فطرت یہ تقاضا کرتی ہے کہ جب اس کے جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو اسے پیاس کا احساس ہوتا ہے، اور اس فطری تقاضے کا جواب پانی کی صورت میں خود فطرت نے فراہم کیا ہے۔ اسی طرح انسان فطری طور پر شہوت اور بقا کا شعور رکھتا ہے تو جنسِ مخالف کی صورت میں اس تقاضے کا حل بھی فطرت ہی نے پیش کیا ہے۔ انسان فطری طور پر اس ہستی کا شکر گزار ہوتا ہے جو اسے کوئی نعمت عطا کرے، اور جتنا زیادہ عطا کیا جائے اتنا ہی زیادہ شکر ادا کرنا بھی فطری امر ہے۔ یہی شکر جب شعور کے ساتھ انجام پاتا ہے تو عبادت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر شکر اور عبادت کا شعور انسان کی فطرت میں موجود ہے تو لازماً وہ ذات بھی موجود ہے جو حقیقی طور پر عبادت کے لائق ہو
آج کا انسان مجموعی طور پر شدید اضطراب کا شکار نظر آتا ہے۔ جدید ترقی، سائنسی سہولتوں اور مادی آسائشوں کے باوجود اس کے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جنگیں، ناانصافیاں، طبقاتی تفریق، اخلاقی زوال اور روحانی خلا نے انسان کو اندر سے بے چین کر دیا ہے۔ اس کے باوجود آج بھی ہر قلبِ مضطرب کی یہی پکار ہے کہ کسی دن یہ حالات بدلیں گے اور کوئی ایسی ہستی آئے گی جو انسان کو اس ظلم و ستم اور ناانصافی سے نجات دلائے گی۔ یہ امید اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کا ضمیر ابھی زندہ ہے اور وہ عدلِ کامل کا خواب ترک کرنے پر آمادہ نہیں
چونکہ یہ آواز فطرت کی ہے اور فطرت کا تقاضا ہے، اس لیے اس کا کوئی نہ کوئی حقیقی حل بھی ضرور موجود ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مصیبت زدہ انسان کے ذہن میں کسی نہ کسی صورت ایک نجات دہندہ کی دھندلی سی تصویر ابھرتی ہے۔ تاہم اسلام نے اس مبہم تصور کو افسانوں اور قیاس آرائیوں کے حوالے کرنے کے بجائے وحی، عقل اور تاریخ کی روشنی میں نہایت واضح اور روشن انداز میں پیش کیا ہے اور اس دھندلی تصویر سے غبارِ ابہام کو مکمل طور پر صاف کر دیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک روایت تواتر کے ساتھ منقول ہے کہ لو لم یبق من الدنیا إلا یوم واحد لطول اللہ ذلک الیوم حتی یخرج من ولدي فیملؤھا عدلاً و قسطاً کما ملئت جوراً و ظلماً
یعنی اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن بھی باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا طویل کر دے گا کہ میری اولاد میں سے ایک شخص قیام کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی
یہ روایت محض مستقبل کی ایک خبر نہیں بلکہ حال کے انسان کے لیے حوصلے، صبر اور امید کا پیغام ہے۔ رسول خدا ص اس کے ذریعے یہ واضح فرما رہے ہیں کہ انسان کو کسی بھی حال میں مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ظلم چاہے جتنا بھی بڑھ جائے، اللہ تعالیٰ کی عدالت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور طاقتور ہے۔ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ہر مظلوم کو سہارا ملے گا اور ہر مصیبت زدہ کو نجات نصیب ہوگی، اور وہ نجات دہندہ رسول خدا ص کی اولاد میں سے ہوگا، یعنی امام مہدی علیہ السلام۔
تاہم یہاں چند ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں جو بہت سے اذہان کو پریشان کر دیتے ہیں۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ آج تو ظلم و ستم اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، پھر وہ نجات دہندہ کیوں ظاہر نہیں ہو رہا؟ اگر یہ کہا جائے کہ امام مہدی علیہ السلام موجود ہیں مگر غائب ہیں تو اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی ہستی غائب ہو کر کس طرح انسانیت کی رہنمائی کر سکتی ہے؟ اگر امام موجود ہیں مگر لوگوں کی براہِ راست رسائی ممکن نہیں تو پھر ان کے وجود کا فائدہ کیا ہے؟
ان سوالات میں انسان کے درد مند دل کی جھلک صاف نظر آتی ہے، مگر ان کا جواب بھی عقل اور نقل دونوں کی روشنی میں موجود ہے۔ کسی چیز کے فائدے کو نہ جاننا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ فائدہ مند نہیں ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں بے شمار ایسی چیزیں موجود ہیں جن کے فوائد سے ہم واقف نہیں ہوتے، مگر سائنس وقت کے ساتھ ساتھ ان کے حیرت انگیز اثرات کو آشکار کر دیتی ہے۔ لہٰذا اگر ہمیں کسی شے کے فائدے کا علم نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ بے فائدہ ہے
اسی طرح ہمیں متواتر روایات سے یہ یقین حاصل ہے کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے امام مہدی علیہ السلام کو پردۂ غیبت میں رکھا ہوا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خداوندِ متعال کا کوئی بھی عمل حکمت اور مصلحت کے بغیر نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ بات عقلی طور پر ثابت ہو جاتی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کا غیبت میں ہونا بھی امت کے لیے کسی نہ کسی طرح فائدہ مند ہے، خواہ اس فائدے کی تمام جہتیں ہماری محدود عقل کے دائرے میں نہ آ سکیں
درحقیقت غیبت انسان کے ایمان، بصیرت اور صبر کا امتحان ہے۔ یہ مرحلہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ صرف ظاہر پر اکتفا نہ کرے بلکہ غیب پر بھی ایمان رکھے۔ امام کا وجود اس کائنات میں روحانی توازن، امید کے تسلسل اور عدلِ الٰہی کے وعدے کی ضمانت ہے۔ جیسے سورج بادلوں کے پیچھے چھپ کر بھی زمین کو زندگی بخشتا رہتا ہے، اسی طرح امامِ غائب بھی انسانیت کے لیے ہدایت اور امید کا سرچشمہ ہیں
یوں امام مہدی علیہ السلام محض ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ ہر دور کے مظلوم کی امید، ہر بے بس دل کی صدا اور ہر قلبِ مضطرب کی پکار ہیں۔ جب تک دنیا میں ظلم کے خلاف ایک بھی دل دھڑکتا رہے گا، امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی امید بھی زندہ رہے گی



