نہضتِ حسینی عالمی انسانی اقدار کی بنیاد ہے : مرجعِ دینیِ اعلیٰ کے نمائندے
امریکا اور یورپ میں مرجعِ دینیِ اعلیٰ کے نمائندے، جناب سید مرتضیٰ کشمیری نے کہا ہے کہ کربلا صرف ایک جغرافیائی شہر یا تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ پیغام، ہمہ وقت تازہ رہنے والی تحریک اور ایک عالمی انسانی منصوبہ ہے
حرمِ امام حسینؑ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے اٹھارویں بین الاقوامی ربیع الشہادہ فیسٹیول کی افتتاحی تقریب حرمِ حسینی کے صحنِ مبارک میں منعقد ہوئی، جس میں متولیِ شرعی حرمِ امام حسینؑ جناب شیخ عبدالمہدی کربلائی سمیت دنیا بھر سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی
سید مرتضیٰ کشمیری نے کہا کہ امام حسینؑ اور آپؑ کے اہلِ بیتؑ کی شہادت امت کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی، جو اصلاح، عدل، آزادی اور انسانی وقار کی عملی مثال بن گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کربلا محض ایک جغرافیائی شہر یا ماضی کا کوئی واقعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ پیغام، مسلسل جاری رہنے والی نہضت اور ایک عالمی انسانی منصوبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا خصوصاً اربعین جیسی میلیونی زیارات کے ذریعے ایک روحانی، فکری اور ثقافتی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جو امام حسینؑ کی اقدار سے وابستگی اور وفاداری کا عظیم مظہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کربلا مختلف طبقات کو، خواہ وہ شیعہ ہوں یا سنی، مسلمان ہوں یا غیر مسلم، عدل، آزادی اور انسانی کرامت جیسی مشترکہ اقدار پر جمع کرتی ہے، اور انسانی مکالمے اور باہمی قربت کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے
سید مرتضیٰ کشمیری نے اس بات پر زور دیا کہ نہضتِ حسینی کے اصولوں کو صرف یاد رکھنے تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے، بلکہ انہیں ہماری روزمرہ زندگی میں عملی معیار بنانا ہوگا، جیسے سماجی انصاف کا قیام، ظلم کے خلاف جدوجہد اور انسانی وقار کا تحفظ
انہوں نے مزید کہا کہ عتبۂ حسینیہ اور عتبۂ عباسیہ مقدسہ اس عظیم پیغام کو فروغ دینے اور کربلا کی حیثیت کو ایک پائیدار عالمی منصوبے میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں بالخصوص وحدت پر مبنی خطاب، ثقافتی اقدامات اور اقوام و مذاہب کے درمیان مکالمے کے ذریعے
انہوں نے شیخ عبدالمہدی کربلائی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ شیخ عبدالمہدی کربلائی کی کاوشیں بے حد قابلِ قدر ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے دین، عقیدہ اور عتبۂ حسینیہ مقدسہ کی خدمت کے لیے اپنی زندگی، وقت اور توانائیاں وقف کر رکھی ہیں
آخر میں انہوں نے کہا کہ مرجعیتِ اعلیٰ سے پوپ کی ملاقات کے بعد دنیا نے مرجعِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی کی جانب خصوصی توجہ دینا شروع کر دی ہے، اور ان واقعات کے بعد شیعہ شناخت عالمی سطح پر موضوعِ گفتگو بن چکی ہے، یہاں تک کہ لوگ شیعہ اور ان کے مراجع کے بارے میں سوالات کرنے لگے ہیں



