صحنِ عقیلہ زینبؑ میں علمِ حزن بلند کر دیا گیا
عتبۂ حسینیۂ مقدسہ کے سیکرٹری جنرل، جناب حسن رشید العبایجی نے عقیلۂ بنی ہاشم حضرت زینبِ کبریٰؑ کی سیرتِ طیبہ سے رہنمائی حاصل کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی تاکید کی، کیونکہ یہی دنیا و آخرت میں نجات کا محفوظ راستہ ہے
یہ بات انہوں نے حضرت زینبِ کبریٰؑ کی یومِ رحلت کی مناسبت سے علمِ حزن بلند کرنے کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی، جس میں علمائے کرام، سماجی شخصیات اور عراق کے مختلف صوبوں سے آئے ہوئے زائرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی
اس موقع پر عتبۂ حسینیۂ مقدسہ کے سیکرٹری جنرل، جناب حسن رشید جواد العبایجی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم آج عقیلۂ بنی ہاشم حضرت زینبِ کبریٰؑ کی شہادت کی یاد منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ یہ وہ عظیم خاتون ہیں جو بے شمار اعلیٰ صفات کی حامل تھیں؛ آپؑ مخدرہ، عالمہ غیر معلمہ اور صاحبِ فہم تھیں، جیسا کہ امام زین العابدینؑ نے آپؑ کے بارے میں فرمایا۔ آپؑ بلیغ، فصیح، خطیبہ اور حکمت سے بھرپور شخصیت تھیں۔ آپؑ میں ایسی خصوصیات تھیں جن کے بیان سے زبان عاجز ہے۔ حضرت زینبؑ کو “عقیلہ” کا لقب خدا کے حکم سے عطا ہوا، اور رسولِ اکرم حضرت محمد ص نے خود آپؑ کا نام رکھا۔
سامعین گرامی! اسی مقدس مقام سے امام حسینؑ کی شہادت کے بعد زینبی پرچم بلند ہوا۔ یہ وہ نہایت سخت اور کٹھن حالات تھے جنہیں عقیلۂ بنی ہاشمؑ نے صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا، حالانکہ آپؑ اپنے بھائی، دیگر بھائیوں اور ان کے فرزندوں کی شہادت کے غم سے نڈھال تھیں۔ اسی دردناک حالت میں آپؑ اس ٹیلے پر تشریف لائیں جہاں ہم آج کھڑے ہیں، اور دشمنوں کو راستہ کھولنے کا حکم دیا۔ دشمنوں کا لشکر دو صفوں میں تقسیم ہو گیا۔ آپؑ جسمِ اطہر کے قریب آئیں، اسے اپنے ہاتھوں سے تھاما، سینے سے لگایا، آسمان کی طرف بلند کیا اور عرض کیا:
اے اللہ! اس قربانی کو قبول فرما۔
حضرت زینبؑ عزت، جرأت، ثبات، صبر اور برداشت کی عظیم مثال تھیں، اسی لیے آپؑ کو جبلُ الصبر کہا جاتا ہے



