حضرت زینب کبریٰؑ صبر، بصیرت اور حق گوئی کی عظیم مثال

: سردار حسین نجفی 2026-01-05 05:28

اسلامی تاریخ کی درخشاں شخصیات میں حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کا نام ایک ایسی ہمہ جہت، باکمال ، بامقصد دلیر و شجاعت کا پیکر اور انقلابی شخصیت کے طور پر سامنے آتا ہے جنہوں نے نہ صرف خانوادۂ رسالت کی عظمت کو محفوظ رکھا بلکہ کربلا کے بعد حق و باطل کے معرکے کو فکری اور ابلاغی سطح پر فیصلہ کن موڑ عطا کیا۔ جناب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا محض ایک غم زدہ بہن یا اسیر خاتون نہیں بلکہ وہ اسلام کی تاریخ میں شعور، صبر، شجاعت، فصاحت و بلاغت اور استقامت کی زندہ علامت ہیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا ،امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور جناب سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی صاحبزادی ہیں۔ آپ علیہا السلام کی ولادت باسعادت مدینہ منورہ میں 5 یا 6 ہجری، 5 جمادی الاول کے دن ہوئی۔ اس طرح آپ براہِ راست اس گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں جسے قرآن نے تطہیر و عصمت کا مرکز قرار دیا۔

نامِ مبارک زینب کے بارے میں متعدد اقوال ملتے ہیں؛ بعض کے مطابق یہ خوش منظر اور خوشبو دار درخت کا نام ہے، جبکہ ایک رائے کے مطابق یہ زَینُ أب (باپ کی زینت) سے ماخوذ ہے، جو آپ کی شخصیت پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ روایات کے مطابق خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے وحیِ الٰہی کے ذریعے آپ کا نام رکھا، جو آپ کے غیر معمولی مقام کی علامت ہے

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو تاریخ نے محض ایک نام نہیں بلکہ متعدد القابات عطا کیے، جو ان کی ہمہ جہت شخصیت کا آئینہ دار ہیں۔ جن میں سے چند ایک معروف القابات

عقیلۃ بنی ہاشم ، عالِمۃ غیر معلَّمۃ ، نائبۃ الزہراء، نائبۃ الحسین، عابدۃ آل محمد، شریکۃ الشہداء، ام المصائب اور عقیلۃ النساء جیسے القابات اس بات کا اعلان ہیں کہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے ہر میدان میں اپنی انفرادیت ثبت کی

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا نکاح اپنے چچا زاد حضرت عبداللہ بن جعفر علیہ السلام سے ہوا، جو سخاوت، حلم اور شرافت میں مشہور تھے۔ اس ازدواجی زندگی سے آپ کے ہاں عون، و محمد جیسے دلیر فرزند پیدا ھوئے جنہوں نے اپنے آپ کو کربلا میں مولا ابا عبد اللہ حسین علیہ السلام پر قربان ھوئے ،آپ کے بیٹوں کی شہادت نے آپ کے صبر و رضا کو ایک نئی بلندی عطا کی

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا علمی مقام ایسا تھا کہ انہیں عالِمۃ غیر معلَّمۃ کہا گیا، یعنی وہ عالمہ جنہیں کسی ظاہری استاد نے تعلیم نہ دی۔

کوفہ اور شام میں آپ کے خطبات، قرآن فہمی، دینی استدلال اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ قرآن و سنت پر کامل عبور رکھتی تھیں۔ امیر کائنات ، امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے دور خلافت میں آپ خواتین کے لیے تفسیرِ قرآن کی مجالس منعقد کیا کرتی تھیں

آپ علیہا السلام سے عبداللہ بن عباس اور دیگر اکابر نے احادیث روایت کیں، جو آپ کے علمی مقام کی روشن دلیل ہیں

حضرت زینب سلام اللہ علیہا ،عبادت، تہجد اور ذکرِ الٰہی میں ممتاز مقام رکھتیں تھیں۔ روایت ہے کہ آپ نے کبھی نوافل ترک نہیں کیے، حتیٰ کہ شبِ گیارا محرم جیسی ہولناک رات میں بھی نمازِ شب ادا کی۔

حضرت فاطمہ بنت الحسین علیہا السلام فرماتی ہیں کہ اس رات ہماری آنکھوں میں نیند نہ تھی، مگر پھوپھی زینب سلام اللہ علیہا محراب میں کھڑی اپنے رب سے مناجات کر رہی تھیں۔ یہ عبادت صرف ذاتی نہیں بلکہ ایک عملی پیغام تھا کہ بندگی حالات کی محتاج نہیں

جناب زینب سلام اللہ علیہا کا حجاب و عفاف اسلامی معاشرے کا اعلیٰ ترین نمونہ تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ جب آپ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم پر جاتیں تو امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام چراغ بجھا دیتے تاکہ کوئی نگاہ آپ پر نہ پڑے۔

یحییٰ مازنی کا بیان ہے کہ برسوں ہمسایہ ہونے کے باوجود نہ کبھی آپ کو دیکھا نہ آواز سنی۔ یہ عفاف، کردار اور تربیتِ زہراء سلام اللہ علیہا کا روشن مظہر ہے

اگر کربلا میدانِ شہادت تھا تو کوفہ اور شام میدانِ خطابت و بیداری تھے اور ان میدانوں کی قائد سیدہ زینب سلام اللہ علیہا تھیں

ابن زیاد اور یزید کے دربار میں آپ کے خطبات نے جابر اقتدار کو لرزا کر رکھ دیا۔ آپ نے ظلم کو اس کے نام سے پکارا، حق کو دلیل کے ساتھ پیش کیا اور شہداء کے خون کو زندہ تاریخ بنا دیا

آپ کا وہ تاریخی جملہ:ما رأیتُ إلّا جمیلا

صبر، رضا اور معرفتِ الٰہی کی معراج ہے

کربلا کے بعد امامت کا تسلسل خطرے میں تھا، مگر جناب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا ڈھال بن کر کھڑی ہوئیں۔ شمر اور ابن زیاد کے سامنے امام سجاد علیہ السلام کی جان بچانے کے لیے اپنی جان پیش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ محض خطیبہ نہیں بلکہ محافظِ امامت بھی تھیں

کوفہ کے ایک راوی کا قول ہے میں نے کسی پردہ نشین خاتون کو زینب سلام اللہ علیہا سے زیادہ فصیح نہیں دیکھا، گویا وہ علیہ السلام کی زبان سے بول رہی ہوں

یہی وجہ ہے کہ آپ کے خطبات آج بھی نہج البلاغہ کی بازگشت محسوس ہوتے ہیں

حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کی سیرت آج کے دور کے لیے ایک مکمل فکری، اخلاقی اور سماجی دستور ہے۔ وہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ حق کی گواہی صرف تلوار سے نہیں بلکہ زبان، صبر، کردار اور شعور سے بھی دی جاتی ہے۔

جناب زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کو تاریخ، شہادت کو پیغام اور اسیری کو انقلاب میں بدل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ظلم کے ہر ایوان میں زینبی خطبوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔

العودة إلى الأعلى