وفاقی اردو یونیورسٹی میں سیرت النبی ص چیئر کے زیرِ اہتمام سیرتِ امام حسینؑ پر سیمینار کا انعقاد

2026-06-09 08:23

اسلام آباد: وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چیئر کے زیرِ اہتمام ایک روزہ سیمینار بعنوان حضرت امام حسینؑ سیرتِ نبوی ص کے عملی ترجمان اور نوجوانوں کے لیے نمونۂ عمل منعقد ہوا

تقریب کا آغاز شعبۂ اسلامیات کے طالب علم حافظ حسان علی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ شعبۂ اردو کی طالبہ حفصہ بی بی نے نعتِ رسولِ مقبول پیش کرنے کی سعادت حاصل کی

سیمینار کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے کی، جبکہ معروف عالمِ دین علامہ عارف حسین واحدی (رکن اسلامی نظریاتی کونسل) اور ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ فکرِ اسلامی، تاریخ و ثقافت، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد) نے بطور مہمان مقرر شرکت کی

استقبالیہ خطاب میں ڈین کلیۂ الیکٹریکل انجینئرنگ ڈاکٹر راحت اللہ نے شیخ الجامعہ، مہمان مقررین، اساتذہ کرام اور طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیمینار ایک نہایت اہم اور بروقت موضوع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی سیرت نوجوان نسل کی کردار سازی اور فکری رہنمائی کے لیے بہترین نمونہ ہے

ان کے مطابق امام حسینؑ سے محبت محض جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ ان کی تعلیمات نوجوانوں میں عدل، جرأت، حق گوئی، استقامت اور بہادری جیسی اعلیٰ صفات پیدا کرتی ہیں

مہمانِ خصوصی علامہ عارف حسین واحدی نے سیمینار کے انعقاد پر سیرت النبی چیئر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے حضرت امام حسینؑ کے فضائل و مناقب بیان کیے۔

انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنی عظیم قربانی کے ذریعے حق و باطل کے درمیان واضح خطِ امتیاز قائم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے نوجوان اگر امام حسین علیہ السلام کی سیرت سے سچائی، شجاعت اور استقامت کا درس حاصل کریں تو وہ معاشرے میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں

دوسرے مہمان مقرر ڈاکٹر طاہر اسلام عسکری نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیمینار کا موضوع نہایت بامعنی اور فکری اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسوۂ حسنہ قرار دیا، جبکہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی عملی زندگی کے ذریعے سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی ترجمانی کی انہوں نے مزید کہا کہ عبادت، راہِ خدا میں انفاق اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے ہر قربانی کے جذبے جیسی صفات امام انہوں نے حدیثِ مبارکہ حسینؑ مجھ سے ہیں اور میں حسینؑ سے ہوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام امتِ مسلمہ کے لیے وحدت، حق پسندی اور استقامت کی روشن علامت ہیں کی زندگی کا نمایاں حصہ تھیں، جنہیں اپنانا آج کے نوجوانوں کی کامیابی کی ضمانت بنا سکتا ہے

صدارتی خطاب میں شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت امتِ مسلمہ کو اتحاد، اخوت اور باہمی ہم آہنگی کا درس دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے کر مسلمانوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لہٰذا ہمیں فرقہ واریت اور انتہا پسندی سے دور رہتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے پیغامِ وحدت کو فروغ دینا چاہیے

انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ مذہبی و مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے محبت، برداشت اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھیں

شیخ الجامعہ نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چیئر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے علمی اور فکری موضوعات پر سیمینارز کا انعقاد جاری رہنا چاہیے، اور وہ ایسی علمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے

ڈائریکٹر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چیئر ڈاکٹر حافظ عبدالرشید نے اپنے اختتامی کلمات میں شیخ الجامعہ، مہمان مقررین، اساتذہ کرام اور طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو امام حسین علیہ السلام کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے اندر سچائی، اخلاقی جرأت، حق گوئی، شجاعت، استقامت اور خدمتِ انسانیت جیسی صفات پیدا کرنی چاہییں

تقریب کے اختتام پر شیخ الجامعہ نے مہمان مقررین کو سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چیئر کی جانب سے یادگاری شیلڈز پیش کیں، جبکہ ڈائریکٹر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چیئر نے شیخ الجامعہ کو شیلڈ پیش کی۔ سیمینار کی نظامت کے فرائض شعبۂ اسلامیات کے لیکچرار ڈاکٹر عبدالغنی نے انجام دیے

المرفقات

العودة إلى الأعلى